اے مصوّر میرے محبوب کی تصویر بنا!!
تجھ سے بن جائے تو بگڑی ہوئی تقدیر بنا

ذلف ایسی ہو کہ برسات بھی پانی مانگے!!
سرخ ہونٹوں سے ہر اک پھول جوانی مانگے
دل جنہیں چوم کے زخموں کی نشانی مانگے

نرگسی آنکھ میں کاجل کے وہی تیر بنا !
اے مصوّر میرے محبوب کی تصویر بنا

میں تجھے حسن کے انداز دکھاؤں کیسے؟
اپنی آنکھیں تیرے چہرے پہ لگاؤں کیسے؟
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو جاؤں کیسے؟

جس میں الجھا رہوں دن رات وہ زنجیر بنا!
اے مصوّر میرے محبوب کی تصویر بنا !

آج یہ آخری حسرت بھی نکل جانے دے
اس کے جلووں کی آگ میں جل جانے دے
یا مجھے موت کے قدموں میں مچل جانے دے

ورنہ جینے کیلئے اب کوئی تدبیر بنا !
اے مصوّر میرے محبوب کی تصویر بنا..❤❤


Story in Audio